آپ کا استفسار امام ابو حنیفہ کی کتاب “الفقه الأبسط” میں درج “لا تكفر أحدا من أهل القبلة بذنب” (کسی بھی اہل قبلہ کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہ دینا) کے اصول کے بارے میں ہے، جو کہ “أصول أهل السنة والجماعة” (اہل سنت والجماعت کے اصول) (القسم ٢) کا بنیادی حصہ ہے۔
یہ اصول دراصل اہل سنت والجماعت کے اس بنیادی اعتقاد کی وضاحت کرتا ہے کہ ایک موحد (توحید پر یقین رکھنے والا) مسلمان، چاہے وہ کتنا ہی بڑا گناہ (کبیرہ گناہ) کیوں نہ کر لے، دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
١. اہل السنۃ والجماعۃ کے اصول میں یہ عقیدہ
یہ اصول، جو اہل سنت والجماعت کے اعتقادی ستونوں میں سے ہے، کتاب کے دوسرے حصے میں درج کیا گیا ہے۔
امام ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) سے ان اصولوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: “لا تكفر أحدا من أهل القبلة بذنب” (اہلِ قبلہ میں سے کسی کو بھی کسی گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہ دو)۔
اس اصول کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے والا شخص (اہل قبلہ) کسی بھی گناہ (بذنب) کی وجہ سے خود بخود کفر کے دائرے میں داخل نہیں ہوتا۔
٢. گناہ گار مومن کا حکم (الخلاف في مرتکب الکبیرہ)
امام ابو حنیفہ نے واضح طور پر کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کے شرعی مقام کی وضاحت کی ہے، تاکہ وہ فرقوں (جیسے خوارج) کے نقطہ نظر سے ممیز ہو سکیں جو گناہ کو کفر سمجھتے تھے:
- زانی، چور، یا قاتل کا مقام: امام ابو حنیفہ کے نزدیک، وہ شخص “فاسق مؤمن” (گناہ گار مومن) کہلاتا ہے، جس نے حق کے بغیر کسی جان کو قتل کیا ہو، چوری کی ہو، راہزنی کی ہو، زنا کیا ہو، فسق یا فجور کا ارتکاب کیا ہو، یا شراب پی ہو۔
- وہ کافر نہیں ہے: اس شخص کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا (وليس بكافر)۔
- ظالم مؤمن: جب امام ابو حنیفہ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص (ایمان کے ساتھ) تمام فرائض (شرائع الاسلام) پر یقین نہ رکھتا ہو اور مر جائے تو کیا وہ مؤمن ہے؟ آپ نے کہا: ہاں۔ اور جب پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص ایمان کی شرائع میں سے کسی چیز کا اقرار نہ کرے مگر اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور مر جائے تو کیا وہ مؤمن ہے؟ آپ نے فرمایا: نعم (ہاں)۔ اسی طرح، اگر کوئی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے “ظالم مؤمن” (ظلم کرنے والا مؤمن) قرار دیا جاتا ہے، نہ کہ کافر یا منافق۔
٣. گناہ گار مومن کا انجام (بذنوبه يعذب قد المؤمن)
چونکہ ایسا شخص ایمان کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، لیکن اپنے گناہوں کی وجہ سے سزا کا مستحق ہو سکتا ہے:
- جہنم میں سزا: امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ مؤمن کو اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جا سکتا ہے (يعذب قد المؤمن بذنوبه)۔
- جنت میں داخلہ: وہ مؤمن جو جنت میں داخل ہوگا، اسے جہنم میں “بالأحداث” (برے اعمال/گناہوں) کی وجہ سے سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ گناہ گار مؤمن سزا کاٹ کر بالآخر جنت میں جائے گا، لیکن اسے ہمیشہ کے لیے کافروں کے ساتھ جہنم میں نہیں رکھا جائے گا۔
- مشیتِ الٰہی پر منحصر: جب ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو ایمان لایا لیکن کوئی عمل (نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ) نہ کیا تو امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ وہ اللہ کی مشیت میں ہے۔ اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس پر رحم فرمائے۔
٤. تکفیر نہ کرنے کے اصول کی مزید تاکید
یہ اصول امام ابو حنیفہ کے اس عمومی منہج کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کو محض تاویل یا غلط فہمی کی بنا پر کافر قرار نہیں دیا جائے گا:
- تاویل میں غلطی: اگر کوئی شخص قرآن کی کسی آیت کے نزول (تَنزیل) کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اس کی تاویل (تَأویل) یا تفسیر میں غلطی کرتا ہے، تو وہ کافر نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اصل تنزیل پر ایمان رکھتا ہے۔
- نبی کے ساتھیوں کا احترام: اہل السنۃ والجماعۃ کے اصول میں یہ بھی شامل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابؓ (خاص طور پر عثمانؓ اور علیؓ) کے معاملے میں توالی (ان کی پیروی/محبت) کی جائے، مگر کسی کو بھی (کسی دوسرے پر) اُحد (فوقیت) نہ دی جائے۔ یہ اصول فتنوں کے زمانے میں بھی تکفیر اور بیزاری سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔
خلاصہ (استعارہ):
“لا تكفر أحدا من أهل القبلة بذنب” کا اصول ایک مضبوط حفاظتی جال کی مانند ہے جو اہل سنت والجماعت نے اپنے ایمان کے دائرے کے گرد لگایا ہے۔ یہ جال اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کے پھسلن بھرے راستے پر لڑکھڑا جائے (جیسے چوری، زنا)، تو وہ زخمی (فاسق) تو ہو سکتا ہے، لیکن ایمان کی رسی (دائرۂ اسلام) سے پوری طرح ٹوٹ کر نیچے (کفر) میں نہیں گرتا۔ اس کے برعکس، خوارج اور دیگر فرقوں کے نزدیک گناہ ایک ایسی بجلی ہے جو ایمان کو فوری طور پر جلا کر راکھ کر دیتی ہے، جبکہ حنفی عقیدہ اسے صرف ایک شدید داغ قرار دیتا ہے، جس کا علاج (عذاب یا رحمت) اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔